نئی دہلی28جولائی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف جھوٹے کیس لگا کر ان کی گرفتاری مہم کو گزشتہ تین ہفتوں سے مودی حکومت نے کئی گناتیز کر دیا ہے۔چن چن کر عام آدمی پارٹی کے ممبران اسمبلی اور رہنماؤں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور ان کے خلاف جھوٹے کیس لگا کر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔عام آدمی پارٹی کی خاتون رہنماؤں کو بھی مودی پولیس نے اپنا ہدف بنانا شروع کر دیاہے۔دہلی اسمبلی کی نائب صدر راکھی برلا کو دہلی پولیس کے اے سی پی فون کر کے بڑی بدتمیزی سے بات کرتے ہیں اور ایک آئینی عہدے کی وقار کا بھی وہ خیال نہیں رکھتے۔پریس سے خطاب کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی کے سینئر رہنما اور ترجمان آشوتوش نے کہا کہ 'عام آدمی پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف مودی جی نے ACB، دہلی پولیس، سی بی آئی اور اب تو انکم ٹیکس محکمہ کو بھی چھوڑ دیا ہے۔حال ہی میں ہمارے ممبر اسمبلی امانت اللہ خان کے بیڈرم تک میں گھس کر ان کی بیوی کے ساتھ دھکا مکی کرتے ہوئے پولیس ممبر اسمبلی کو گھسیٹتے ہوئے گھر سے لے کر جاتی ہے جس کے بعد رکن اسمبلی جی کی بیوی کہتی ہیں کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ انہیں بے پردہ ہونا پڑا۔دوسرے کیس میں نریلا سے رکن اسمبلی موسم چوہان کو پولیس 9-9 گھنٹے سے پوچھ گچھ کرتی ہے اور ہمارے پولیس کے اعلی سطحی ذرائع نے ہمیں بتایا ہے کہ ہماری خواتین کارکن کے خودکشی کیس میں ملزم رمیش بھاردواج پر تھرڈ ڈگری کا استعمال کرتے ہوئے زبردستی پارٹی کے دہلی کنوینر دلیپ پانڈے کا دوسرے آپ لیڈروں کا نام لینے کا دباؤ بنایا جا رہا ہے۔کوئی تعجب نہیں ہو گا کہ کل کو یہ لوگ دلیپ پانڈے کو گرفتار کر تھرڈ ڈگری کا استعمال کر اروند کیجریوال کا نام لینے کا دباؤ بنانے لگ جائیں ۔پارٹی ترجمان آشوتوش نے کہا کہ 'کل ہماری پارٹی کی خاتون رکن اسمبلی اور دہلی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر محترمہ راکھی بڑلان کو دہلی پولیس کے اے سی پی فون کر کے انہیں تھانے میں آنے کی دھمکی دیتے ہیں، حیرت کی بات تو یہ تھی کہ نہ کوئی مقدمہ اور نہ ہی شکایت پھر بھی زبردستی ایک آئینی عہدے پر بیٹھی عورت کے ساتھ بڑی بدتمیزی سے دہلی پولیس کے آفیسر پیش آتے ہیں۔ پولیس راکھی بڑلان کو پھنسانے کے لئے 2013 سے راکھی کو پریشان کر رہے ایک شخص کاسہارا لے رہی ہے۔ہم وزیر اعظم نریندر مودی جی کو کہنا چاہتے ہیں کہ آپ چاہے تو ہمارے 67 کے 67 ممبران اسمبلی کوگرفتار کر لیجئے، ملک کے عوام یہ سب کچھ دیکھ رہی ہے اور ملک کے عوام وقت آنے پر اپنے آپ فیصلہ کر لے گی کہ آپ کو اپنی کرسی پر رہنے کا حق ہے یا نہیں ۔